مائیک پومپیو کی باتیں غیراخلاقی تھیں: ظریف

تہران، 23 مئی، ارنا - ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب کی حالیہ باتوں کو غیرمنطقی اور غیراخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان باتوں کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے ہیں.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے بدھ کے روز تہران میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مائیک پومپیو کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی جس کا جواب دیا.

ظریف نے مزید کہا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور وہ کرائے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکام بالخصوص مائیک پومپیو وہم و خام خیالی کا شکار ہیں. پومپیو نے کوئی نئی بات نہیں تاہم اس نے یہ باتیں انتہائی بے شرمی کے ساتھ کیں.

محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ ایسی ہرزہ سرائیوں سے ایرانی حکومت اور قوم کے درمیان خلل پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ایرانی عوام کے سامنے بھی امریکی قیادت کی ہزرہ سرائیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ کے روز جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کا اجلاس منعقد ہوگا مگر اس میں امریکہ نہیں شامل نہیں لہذا کسی بہانہ بازی کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا.

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ دنوں ایران سے متعلق نام نہاد نئی پالیسی کا اعلان کردیا تھا.

علاوہ ازیں مائیک پومپیو نے ایران مخالف من گھڑت الزامات کو دہرا کر یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ، ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا. پابندیوں کے بعد ایران کو اپنی معیشت کی بقا کا مسئلہ پڑ جائے گا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@