برطانیہ، ایران کیساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کا خواہاں

لندن، 23 مئی، ارنا - حکومت برطانیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ برطانیہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اس معاہدے کے تحت اقتصادی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا.

یہ بات نائب برطانوی وزیر خارجہ برائے امور مشرق وسطی اور شمالی افریقہ 'الیسٹر بیرٹ' نے منگل کے روز ایس اینڈ پی گلوبل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ ہماری اہم ترجیح ایران جوہری معاہدے کو بچانا ہے اسی لیے ہم نے جوہری معاہدے سے امریکے کے نکلنے کے فیصلے ساتھ مخالفت کی.

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمیں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس عالمی معاہدہ منصوبہ بندی شدہ مقصد کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے.

انہوں نے جوہری معاہدے پر ایران کی دیانت داری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے تناظر میں کئے گئے وعدوں پر قائم ہیں

برطانوی عھدیدار نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران اس ایٹمی معاہدے میں باقی رہے کیونکہ یہ ہمارے لئے بہت اہم ہے.

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پیر کے روز ایران سے متعلق امریکہ کی نام نہاد نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے.

علاوہ ازیں مائیک پومپیو نے ایران مخالف من گھڑت الزامات کو دہرا کر یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ، ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا. پابندیوں کے بعد ایران کو اپنی معیشت کی بقا کا مسئلہ پڑ جائے گا.

بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے 8 مئی ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@