امریکہ کے ایران سے حالیہ مطالبات ماضی کی ناکامیوں کے سوا کچھ نہیں: موسویان

میڈرڈ، 23 مئی، ارنا - سابق ایرانی جوہری مذاکرات کار اور امریکی یونیورسٹی پرسٹن کے پروفیسر نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ دنوں ایران سے ان مطالبات کو دہرایا ہے جن میں واشنگٹن کو گزشتہ 40 سالوں سے ناکامی کا سامنا ہے.

یہ بات 'سید حسین موسویان' نے امریکہ کی تجزیہ و خبری ویب سائیٹ لوبلاگ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ مائیک پومپیو کے ایران سے حالیہ مطالبات ماضی میں آزمائے گئے تھے جس میں امریکہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور آج امریکی وزیر خارجہ نے انھی بے کار مطالبات کو ایک بار پھر دہرایا ہے.

موسویان نے کہا کہ مائیک پومپیو نے ایران سے 12 مطالبات کئے بلکہ مطالبہ نہیں انہوں نے ایران کو دھکمیوں سے بھری فہرست پڑھ کر سنایا.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے مطالبات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انھیں ایران کی خارجہ پالیسی سے کوئی علم نہیں اور نہ ہی عالمی قوانین اور خطے کے زمینی حقائق سے باخبر ہیں.

نامور ایرانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ امریکہ کے حالیہ مطالبات سے کچھ نہیں ملے گا بلکہ ایسے بیانات سے خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا.

انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ نعرہ بازیوں سے باز آئے اور جنگوں کو فروغ دینے کی پالیسی کو ترک کرے کیونکہ آج دنیا کو سفارتکاری اور پُرامن اقدامات کی اشد ضرورت ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@