ایران سے متعلق امریکی اقدامات عالمی قوانین کے برعکس ہیں: کینیڈین قانون دان

نیویارک، 23 مئی، ارنا - کینیڈین وکیل اور قانونی امور کے ماہر نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تاہم اس سے متعلق امریکی اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے.

یہ بات 'ریان الفورڈ' نے نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر کڑی نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی سے ان کا چہرہ بین القوامی سطح پر بری طرح مجروح ہوا ہے.

انہوں نے مزید کہا اب امریکہ کوئی بھی ملک کے لئے قابل بھروسہ نہیں رہا کیوں کہ دنیا کے کوئی بھی ممالک اس ملک کے ساتھ معاہدے سے قبل اس کے عملدرآمد پر شک کی نگاہ سے دیکھے گا.

کینیڈین کے ماہر قانون نے جوہری معاہدے کو توڑنے کے امریکہ کے عمل پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دن دہاڑے میں ایران جوہری معاہدے کو توڑا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے .

انہوں نے کہا جب ایران جوہری معاہدے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں منظوری کے لئے پیش ہورہے تھے تب حکومت امریکہ نے ایک فریق کے طور پر اس پر دستخط کئے تھے جس کے بعد اس معاہدے کو توڑنے کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے.

1*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@