ایران جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں: خاتون یورپی رہنما

تہران، 22 مئی، ارنا - یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک ایران جوہری معاہدے پر قائم ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے.

یہ بات 'فیڈریکا مغرینی' نے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ایران مخالف بیانات کے ردعمل میں کہی.

یورپی یونین کی ویب سائیٹ کے مطابق، خاتون رہنما فیڈریکا مغرینی نے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی نام نہاد حکمت عملی پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا.

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران جوہری معاہدہ ایک عالمی سفارتی فتح ہے جس کا تسلسل جاری رکھنا ناگزیر ہے اور اس معاہدے کی بدولت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو پُرامن رکھنے میں مدد مل رہی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بالخصوص جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن اور دیگر فریقین نے ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کردی ہے جبکہ عالمی جوہری ادارے نے بھی اب تک 11 مرتبہ ایران کے جوہری معاہدے پر قائم رہنے کی تصدیقی کرچکا ہے.

خاتون یورپی رہنما نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی بحالی کو عالمی برادری کا فرض قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کی بحالی جوہری معاہدے کا ایک اہم جز ہے.

یاد رہے کہ خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز ایران سے متعلق امریکہ کی نام نہاد نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے.

علاوہ ازیں مائیک پومپیو نے ایران مخالف من گھڑت الزامات کو دہرا کر یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ، ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا. پابندیوں کے بعد ایران کو اپنی معیشت کی بقا کا مسئلہ پڑ جائے گا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@