امریکہ میں ایران اور دنیا کی جگہ فیصلے کرنے کی کوئی حیثیت نہیں: روحانی

تہران، 22 مئی، ارنا - ایران کے صدر نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک سیاسی خودمختاری کے خواہاں ہیں تاہم امریکہ شاید بعض جگہوں میں دوسروں پر دباؤ ڈال سکے مگر ہم ہرگز نہیں مانتے کہ امریکہ ایران یا دنیا کی جگہ فیصلے کرے.

یہ بات صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے گزشتہ شام ایرانی جامعات کے پروفیسرز اور ڈاکٹروں کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی نئی انتظامیہ نے اس ملک کو 15 سال پہلے میں دکھیل دیا. ایران نے گزشتہ سال یہ عہد کیا کہ ماضی کے دور میں واپس نہیں جائے گا اور آج ہم نہیں گئے مگر موجودہ امریکی حکومت نے اس ملک کو 15 سال پہلے کی پوزیشن پر لے گیا اور آج 2003 اور 2004 کی باتیں دہرائی جارہی ہیں.

ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ ایران اور دنیا کی جگہ امریکی فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ ہی عقل یہ بات مانتی ہے کہ امریکہ دنیا کے لئے فیصلہ کرے.

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے حالیہ ایران مخالف بیانات سے متعلق کہا کہ جب ایک ایسا شخص سالوں سے ایک جاسوسی مرکز میں کام کیا ہو پھر امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے دوسرے ممالک بشمول ایران کو سبق سکھانے کی بات کرے تو یہ ہرگز قابل قبول نہیں.

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں ایران اور دنیا کی جگہ فیصلے کرنے والے، یا ایران کو یہ بتانے والے کہ اس نے جوہری سرگرمیوں سے متعلق کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا.

انہوں نے کہا کہ امریکیوں کی حالیہ باتیں وہی ماضی کی بہیودہ باتوں کی سوا کچھ نہیں جنہیں ایرانی عوام کے سامنے کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی ہماری قوم ایسی باتوں کی پرواہ کرتی ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@