شام میں ہماری موجودگی دمشق حکومت کی درخواست پر ہے: ایران

تہران، 21 مئی، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ شام میں ایران کی موجودگی دمشق حکومت کی باضابطہ درخواست پر ہے جس کا مقصد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں میزبان ملک کی مدد کرنا ہے.

یہ بات ترجمان دفتر خارجہ 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ملکی اور غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہی.

انہوں نے بعض روسی حکام کی جانب سے شام سے ایران کے نکلنے کے بیانات اور اس کی تردید آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک ایران کو کسی اقدام پر مجبور نہیں کرسکتا ہے کیونکہ ایران خودمختار ملک اور آزاد پالیسی پر عمل پیرا ہے.

قاسمی نے کہا کہ شام میں ہماری موجودگی اس ملک کی مرضی کے مطابق ہے اور جب تک اس ملک چاہے اس کی مدد کریں گے.

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عراقی انتخابات کے بعد ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کسی بھی حالت میں واضح ہے اور ہم دونوں ممالک کے درمیان مستقبل تعاون پر امید رکھتے ہیں.

انہوں نے امریکہ کی علیحدگی کے بعد ایران اور یورپ کے درمیان تعاون کے حوالے سے کہا کہ ہم صرف ایران جوہری معاہدے کے تناظر میں دوسرے فریقین کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں.

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی تعمیر نو کے لیے جوہری معاہدے کے باقی فریقین کےساتھ بات چیت کر رہے ہیں.

قاسمی نے افغانستان میں حالیہ وقائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلقات افغانستان کے ساتھ بہت اچھے ہیں اور ہماری پالیسی اس ملک کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنا اور قانونی حکومت کی حمایت کرنا ہے.

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں گے نہ دوسرے ممالک کو اپنے اندرونی مسائل پر مداخلت کرنے کی اجازت دیں گے.

بہرام قاسمی' نے امریکہ کی جانب سے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل 'سید حسن نصراللہ ' پر پابندی لگانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دباؤ اور پابندیاں جوابدہ نہیں ہیں.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@