یورپ، ایرانی کمپنیوں کی سرگرمی کیلئے سازگار ماحول مہیا کرے: عراقچی

تہران، 21 مئی، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں جنہیں وہاں کی حکومتوں کی حمایت حاصل ہے، کو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرے.

یہ بات 'سید عباس عراقچی' جو یورپ کے ساتھ جوہری امور پر مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کے سربراہ ہیں، نے پیر کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یورپ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ سرگرمیوں کے فروغ کے لئے کاروباری کمپنیوں کی حمایت کرے.

ایرانی وزیر خارجہ کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نے جوہری معاہدے کو بچانے سے متعلق یورپ کی طرف سے اٹھائے جانے والے ضمانتی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت یورپ کے تمام عملی اقدامات بشمول قانونی اور سیاسی اقدامات کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں.

سید عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ جیسا کہ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا تھا ہم چاہتے ہیں کہ جوہری معاہدے سے متعلق یورپ کے ساتھ موجودہ مذاکرات کا جلد خاتمہ ہوں اور اس کا مثبت نتیجہ سامنے آئے.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی کو ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@