جوہری معاہدے سے علیحدگی، امریکہ پر بھروسہ نہ کرنے کے ایرانی مؤقف کی تصدیق ہے: صالحی

تہران، 19 مئی، ارنا - ایران کے قومی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے نکل کر ایرانی قیادت کے اس مؤقف کی تصدیق کی ہے کہ وہ ہرگز قابل بھروسہ ملک نہیں ہے.

یہ بات 'علی اکبر صالحی' نے ہفتہ کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے یورپی یونین کے توانائی کمشنر 'مگیل آریس کینٹی' کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کو غیردانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ شاید کوئی اس بات کو پہلے تسلیم نہیں کرتا تھا مگر اب پوری دنیا پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ نہایت غیرقابل بھروسہ ملک ہے جس سے عالمی معاہدوں پر قائم رہنے کی توقع نہیں رکھی جاسکتی.

انہوں نے یورپ کے توانائی کمشنر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں یہ ہماری چوتھی ملاقات ہے.

صالحی نے کہا کہ یورپ نے ایران کے ساتھ پُرامن جوہری تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس مقصد کے لئے یورپ، ایران میں ایک اعلی درجے کے سیفٹی سینٹر قائم کرے گا جس پر یورپی فریق دو کروڑ ڈالر سرمایہ کاری بھی فراہم کرے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی وفد کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی، بینکاری شعبے میں باہمی تعاون کے فروغ اور ایران اور یورپ کے درمیان یورو کرنسی کے لین دین پر بھی اہم گفتگو ہوئی.

علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایرانی قوم گزشتہ چالیس سالوں سے مزاحمت کرتی آرہی ہے اور اس کی بدولت آج وطن عزیز ایران کو بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور آج کے بعد بھی ایران کو درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کا یکے بعد دیگری خاتمہ کردیں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@