عالمی امن کو ٹرمپ اتنظامیہ سے بڑا خطرہ لاحق ہے: ایرانی صدر

تہران، 19 مئی، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کا بعض عالمی معاہدوں بشمول ایران جوہری معاہدے سے نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کی موجودہ حکومت عالمی امن و سلامتی اور قوانین کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے.

یہ بات ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے ترک شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے وائٹ ہاؤس ہمیشہ جبر کی پالیسی اور جنگ کی طرف قدم بڑھاتا ہے. امریکہ کے یکطرفہ اقدامات بالخصوص جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی حالیہ تشویشناک صورتحال کے بعد 14 مئی کو تہران میں اسلامی ممالک کی پارلیمانی یونین کی فلسطین کمیٹی (PUIC) کی ہنگامی نشست ہوئی جس کے فورا بعد ترکی میں اسلامی سربراہوں کے ہنگامی اجلاس کا انعقاد ہورہا ہے لہذا اس یہ اہم پیغام سامنے آتا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہے اور وہ عالم اسلام کو درپیش چیلنجز بالخصوص فلسطین پر صہیونیوں کے ناجائز قبضے کے خلاف ایک محاذ پر کھڑی ہے.

ایرانی صدر نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے اصل دشمن ناجائز صہیونی ریاست کو اسلام اور امت کے مقدسات اور اقدار کی توہین کرنے سے روکا جائے. کیا اگر قابض صہیونی حکمران کے خلاف لڑنے والا ایک مخصوص گروہ پر پابندیاں نہ لگا دیتے اور مزاحمتی فرنٹ کی مشترکہ حمایت کی جاتی ہے یا اگر خطے میں بعض ذلیل ممالک خاموشی اختیار نہ کرتے تو کیا آج غاصب صہیونی حکمران کی یہ جرات ہوتی کہ ایسی وحشیانہ کاروائیوں کا مرتکب ہوں.

انہوں نے تجویز دی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے جس کا مقصد امریکہ کے سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے غیرقانونی اقدام اور غزہ میں صہیونی بربریت کا جائزہ لینا ہے.

صدر روحانی نے مطالبہ کیا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جس کے ذریعے امریکہ کے حالیہ غیرقانونی اقدامات سے نمٹنے کے لئے قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر حل نکالا جائے.

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کے خلاف سیاسی، اقتصادی اور تجارتی اقدامات اٹھائے جائیں. ہم مسلم حکمران اور دنیا کی حریت پسند اقوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ فلسطینی قوم کی حمایت اور ٹرمپ کے منفی اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کے ساتھ اپنے تمام تعلقات پر نظرثانی کریں بالخصوص ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ کسی بھی طرح کے تعلقات منقطع کرتے ہوئے صہیونی مصنوعات اور کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@