ایران نے مقبوضہ فلسطین میں صہیونی مظالم کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

استنبول، 18 مئی، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں ناجائز صہیونی ریاست کے جرائم اور مظالم کی عالمی سطح پر شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائے.

یہ بات ایرانی وزیر خارجہ 'محمد جواد ظریف' نے جمعہ کے روز ترک شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

صہیونی فوج کی جانب سے معصوم فسلطینیوں کے حالیہ قتل عام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ترکی نے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کر رکھا ہے. وزرائے خارجہ کی نشست کے بعد اسلامی ممالک کے سربراہی اجلاس کا انعقاد ہوگا.

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہو سکتا. انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری اس دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے ناجائز صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالے.

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کی نئی نسل صہیونیوں کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے. صہیونی فورسز کے ہاتھوں گزشتہ دنوں یوم نکبہ کے موقع پر شہید ہونے والے نہتے فلسطینی شہری فلسطینی قوم کیلئے مثال بن چکے ہیں.

محمد جواد ظریف نے مزید کہا کہ صہیونی فوج فلسطینیوں پر انسانیت سوز تشدد کر رہی ہے لہذا ہمیں علاقائی اور عالمی سطح پر موثر اقدامات اٹھانے ہوں گے جس کا مقصد فلسطینیوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے.

انہوں نے عالمی برادی سے مطالبہ کیا کہ وہ ناجائز صہیونی ریاست سے مقبوضہ فلسطین سے اپنی فوجیں نکالنے کا کہے. انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ فلسطینیوں کو حق خود ارادیت اور مستقل ملک کے قیام سے محروم نہیں کیا جا سکتا. ظریف نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینیوں کی مکمل حمایت کرتا ہے. ہم اس نشست میں پاس ہونے والی قراردادوں کی حمایت کرتے ہیں تاہم اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ ہم ناجائز صہیونی ریاست کے قیام کو تسلیم کرتے ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@