جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی ایران کی پیٹروکیمیکل برآمدات کو متاثر نہیں کرے گی

تہران، 18 مئی، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے الگ ہونے یا پابندیوں کی ممکنہ واپسی کے باوجود ایران کی پیٹرو کیمیل صنعت اور مصنوعات کی برآمدات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا.

یہ بات ایران کی پیٹرو کیمیکل کمرشل کمپنی کے منیجینگ ڈائریکٹر 'مہدی شریفی نیک نفس' نے جمعہ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے دورے میں پیٹروکیمیکل برآمدات سے متعلق تعمیری حکمت عملی اپنائی گئی تھی جس کا مقصد برآمدات کے عمل کو ہر قسم کے نقصانات نے بچانا ہے لہذا آج بھی اسی حکمت عملی کے ذریعے پیٹروکیمیکل برآمدات کا سلسلہ جاری ہے اور اس پر امریکہ کے حالیہ اقدامات سے کوئی اثر نہیں پڑے گا.

انہوں نے ملک میں شپنگ بیڑے کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاز رانی صنعت کی حمایت سے سمندری سرگرمیوں کے لئے ہم ملکی انشورنس صنعت کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@