جوہری معاہدے کے تحفظ پر ایران سے کوئی تقاضہ نہیں کیا گیا: روس

ماسکو، 16 مئی، ارنا - نائب روسی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کو بچانے کے حوالے سے ایران سے غیرمعمولی تقاضہ کرنے کی رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے کبھی اس حوالے سے ایران سے ڈو مور کا مطالبہ نہیں کیا ہے.

یہ بات 'سرگئی ریابکوف' نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ روسی نیوز ایجنسی کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں ہرگز یہ نہیں کہا کہ ایران کو جوہری معاہدے کے تحفظ کی خاطر پیچھے ہٹنا ہوگا یا اسے غیرمعمولی تقاضے پورے کرنے ہوں گے.

ریابکوف نے اس حوالے سے انٹرفیکس اور دوسری غیرملکی نیوز ایجنسیوں کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک عالمی سمجھوتہ ہے جس کا تحفظ ناگزیر ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران سے غیرعقلانی مطالبات چاہنا کسی بھی مفاد میں نہیں اور اب ہم اسلامی جمہوریہ ایران میں اقتصادی سرگرم کارکنوں کا دفاع کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ اب بعض حکومتیں ایران کی علاقائی پالیسی اور میزائل پروگرام کی کمزوری کے لئے کوشش کررہی ہیں.

تفصیلات کے مطابق، بعض غیرملکی میڈیا نے گزشتہ روز دعوی کیا کہ نائب روسی وزیر خارجہ 'سرگئی ریابکوف' انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران جوہری معاہدے کی نئی درجہ بندی نہ کرے اس معاہدے کے تحفظ ناممکن ہوجائے گا مگر انہوں نے اس دعوے کی تردید کی.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@