ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ پر پابندی لگانے کی وجہ امریکی شکست ہے

تہران، 16 مئی، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی ناکام یکطرفہ علیحدگی پر عالمی ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران مخالف نئی پابندیاں عائد کرنا اور ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ کے نام کو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی وجہ امریکی شکست ہے.

بہرام قاسمی نے امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے چیف ایرانی بینک ولی اللہ سیف پر پابندیاں عائد کرنے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی.

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس بے وقوفانہ اقدام اور پالیسی کو ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کی دشمن پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا.

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ گزشتہ دہائیوں سے مختلف طریقوں سے ایران کے خلاف سازشیں کر رہا ہے.

قاسمی نے کہا امریکہ کی ان دشمن پالیسیاں نہ صرف امریکہ کے مفاد میں نہیں بلکہ ان پالیسیوں نے امریکی سازشوں سے لڑنے کے لیے ایرانی قوم کی مزاحمت اور ارادے کو مزید مستحکم کیا ہے.

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران مخالف نئی پابندیوں خاص طور پر ایرانی سینٹرل بینک کے سربراہ کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران اور یورپ کے درمیان باہمی مذاکرات آگے سمت میں بڑھ رہے ہیں اور امریکہ کے یہ اقدام ان کی ناکامی کی نشاندھی کرتا ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکہ، ایٹمی معاہدے سے نکلنے کےغلط اور تباہ کن فیصلے کے بعد جوہری معاہدے کے دیگر فریقین کے فیصلے پر اثر و رسوخ کرنا چاہتاہے.

9410*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@