جوہری معاہدے میں تبدیلی اور از سرنو مذاکرات امریکیوں کا خام خیال ہے: ولایتی

تہران، 16 مئی، ارنا - ایرانی سپریم لیڈر کے سنیئر مشیر نے جوہری معاہدے میں تبدیلی اور از سرنو مذاکرات کو امریکیوں کا خام خیال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کے ساتھ مخالف ہے.

یہ بات 'علی اکبر ولایتی' نے منگل کے روز شامی پروفیسروں کی ملاقات کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا مکمل نفاذ ناگزیر ہے اور اس میں کسی بھی تبدیلی ناممکن ہے.

ولایتی نے کہا کہ بعض یورپی ممالک اور امریکہ خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی کمزوری کے لئے ہماری میزائل طاقت کو چھوڑنا چاہتے ہیں مگر ایران کبھی بھی اس کو منظور نہیں کرے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کا عالمی قوانین پر اپنی دیانتداری کے اثبات کرنے کے لئے وقت محدود ہے اور اگر وہ جوہری معاہدے میں تبدیلی پیدا کریں تو ایران اسے تسلیم نہیں کرے گا.

انہوں نے فلسطین میں ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ وحشیانہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی بہادر قوم گزشتہ سالوں سے جابر صہیونیوں کے خلاف اٹھ کھڑے رہے ہیں.

انہوں نے القدس شریف کو امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ایسے اقدام عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے البتہ جلد سے مقبوضہ فلسطین کے تمام علاقے آزاد کئے جائيں گے.

ایرانی سپریم لیڈر کے خصوصی مشیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 1967 کے جنگ کے بعد اپنی ایک قرارداد میں القدس شریف کو صہیونی دارالخلافہ بنانے پر پابندی لگا دی مگر صہیونیوں نے اس عالمی قرارداد کو نظر انداز کردیا.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@