ایران نے کبھی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی: امانو

ماسکو، 15 مئی، ارنا - بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ اس ادارے کو ایران سے متعلق جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے.

روس کے سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ بات 'یوکیا امانو' نے روسی شہر سوچی میں صدر 'ویلادیمیر پیوٹن' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

ویانا میں قائم عالمی اداروں میں تعینات روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف نے امانو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہرگز جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوا اور نہ ہی عالمی جوہری ادارے کے پاس اس حوالے سے کوئی شواہد ہیں.

میخائل اولیانوف نے مزید کہا کہ یوکیا امانو نے روسی صدر کے ساتھ اس ملاقات میں جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں ںے کہا کہ عالمی جوہری ادارے کی جانب سے ایران میں جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری کا سلسلہ جاری رہے گا.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا کہ وہ ایران جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@