ایران مخالف امریکی اقدام کا کوئی بھی حمایت نہیں کرے گا : افغان تجزیہ کار

کابل،14 مئی، ارنا – افغانستان انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے سربراہ 'داود مرادیان'کہا ہےکہ ایران کے ‍جوہری معاہدے کے خلاف ٹرمپ کا فیصلہ کا کوئی بھی حمایت نہین کرے گا.

ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کا اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی ہے جس کے نتیجے میں کوئی بھی خودمختار ملک اس اقدام کی حمایت نہین کرے گا.

افغانستان کے معروف سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ایران مخالف اقدام کے فورا بعد امریکہ میں ایک عوامی جایزہ میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ امریکہ کے اکثر عوام نے ایران کی جوہری معاہدے کی مکمل حمایت کی ہیں.

انہوں نے کہا اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں ایک اہم ملک ہے جس کی وجہ سے وہ امریکہ سے اپنی مفادات کے تحت بات چیت کا سلسلہ جاری رکھ سکتا ہے.

افغانستان کے سابق سفارتکار نے کہا ہے کہ امید ہے کہ بہت جلد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دروازہ پھر سے کھل جائے اور میرے خیال میں باہمی تنازعات کا واحد راستہ گفتگو اور بات چیت ہی ہے.

افغانستان میں ایران کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہو‍ئے انہوں نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان سخت دشمنی کے باوجود افغاستان کی سرزمین کبھی ان دونوں حریف ممالک کے پراکسی وار نہیں رہی.

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معادے سے امریکہ کی دستبرداری، اقوام عالم کے لئے ایک مایوس کن اقدام ہے جس کی وجہ سے دنیا کے امن و مان کی صورت حال مزید خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوا ہے.

1*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@