ایران جوہری معاہدے پر روس کا موقف امید کی کرن ہے: ظریف

ماسکو، 14مئی،ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے میں ایرانی مفادات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے پر روس کا موقف امید کی کرن ہے.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے پیر کے روز روس کے دارالحکومت میں اپنے روسی ہم منصب 'سرگئی لاوروف' کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہم اس دورے کے دوران گروپ 4+1 کے ساتھ جوہری معاہدے پر باہمی تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے.

ظریف نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی قواعد اور عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کرنا امریکہ کی عادت بن گیا ہے اور یہ اس ملک کے لیے ایک معمول کی بات ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی باضابطہ علیحدگی کے بعد ڈپلومیسی کو ایک محدود وقت دینا کا فیصلہ کیا گیا.

ایرانی وزیر نے کہا کہ جوہری معاہدہ ایرانی، یورپی اور امریکی مفادات کی بنا پر استوار ہے اور اس نئی صورتحال میں جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کے پاس وقت بہت محدود ہے لہذا انہیں چاہئے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایرانی مفادات کے ہر صورت میں تحفظ کو یقینی بنائیں.

انہوں نے کہا کہ اس ملاقاتوں کا مقصد دوسرے فریقین کی جانب سے جوہری معاہدے میں ایران کے مفادات کے مکمل تحفظ کے لیے ضمانت دینا ہے.

ظریف نے کہا کہ آج(14 مئی) امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس کی منتقلی کا دن ہے جو یہ ایک خطرناک اقدام ہے تو عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کی حفاظت کرنی چاہیے.

محمد جواد ظریف ایرانی صدر کے حکم کے تحت جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے آج بروز پیر روسی دارالحکومت ماسکو میں پہنچ گئے.

یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ ہفتہ کے روز جوہری معاہدے کے دیگر فریقین کے ساتھ مذاکرات کیلیے چین، روس اور یورپی یونین کے دورے پر روانہ ہوگئے.

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@