ایران جوہری معاہدہ اور مسئلہ فلسطین میں امریکہ کے اقدامات لاجواب نہیں رہے گا: لاریجانی

تہران، 14 مئی، ارنا – ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ اور صہیونیوں کو جان لینا چاہئے کہ ایران جوہری معاہدہ اور مسئلہ فلسطین میں ان کا اقدامات لاجواب نہیں رہے گا.

ان خیالات کا اظہار 'علی لاریجانی' نے پیر کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں اسلامی پارلیمانی یونین کی فلسطینی مستقل کمیٹی کی ہنگامی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر تنازعات پیدا کرنے والے اپنے اقدامات پر واقف نہیں ہے اور جلد سے وہ اور ناجائز صہیونی ریاست اپنی کاروائیوں کے سنگین نتائج کا شکار ہوں گے.

لاریجانی نے کہا کہ امریکی صدر نے نہ صرف 6 دسمبر 2017 کو القدس شریف کو صہیونی دارالخلافہ تسلیم کرنے پر فیصلہ کرتے ہوئے بلکہ ایک دوسرے اقدام میں اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کی سالگرہ کے موقع پر 14 مئی 2018 میں تل ابیب سے بیت المقدس کو اپنے سفارتخانے کی منتقلی کا حکم دے دیا.

انہوں نے منعقد ہونے والی ہنگامی نشست کو ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام دنیا کو باہمی تعاون اور یکجہتی کے ساتھ ٹرمپ کے ایسے بے وقوفانہ فیصلے کے خلاف سنجیدہ اقدام اٹھانا چاہیئے.

اسلامی پارلیمانی یونین کے سربراہ نے کہا کہ عرب ممالک کے اعلی حکام نے 15 اپریل 2018 ٹرمپ کی جانب سے القدس شریف کو جابر صہیونیوں کے درالخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کیا ہے اور آج ان ممالک کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت نہ کرنے کی ضرورت ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ناجا‏ئز صہیونی ریاست اور امریکہ دنیا میں بدامنی پیدا کرکے اپنے وعدوں پر قائم نہیں ہیں اور امریکہ ایک دن چین اور یورپ کے ساتھ کسٹم ڈیوٹی ٹیرف کا خاتمہ کرکے ایک دن عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ اس ملک میں اسلامی ممالک کی شہریوں کے خلاف نیا موقف اعلان کرتا ہے.

ایرانی اسپیکر نے کہا کہ امریکہ نے ایران جوہری معاہدے سے نکل کیا اور وہ اسٹریٹجک فیصلوں کے بحران کا شکار ہو رہا ہے.

تفصیلات کے مطابق، اسلامی پارلیمانی یونین کی فلسطینی مستقل کمیٹی کی ہنگامی نشست کا پیر کے روز ایرانی دارالحکومت تہران میں آغاز کیا گیا جس میں 22 ممالک کے نمائندے شریک ہیں.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@