جوہری معاہدے سے علیحدگی، ٹرمپ کی شکست ہے: خاتون امریکی سیاستدان

نیو یارک، 13 مئی، ارنا - خاتون امریکی سیاستدان کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی صرف سفارتی ناکامی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی واضح شکست کی علامت ہے.

یہ بات' مدیا بنیامین' نے آج بروز اتوار ارنا کے نمائندے کےساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مشرقی وسطی طویل اور بہت سی خطرناک تنازعات کا شکار ہے اور امریکہ کو سفارتکاری کے ذریعے ان مسائل کا حل کرنا ناگزیر ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے خطی مسائل اور تنازعات کا خاتمہ دینے کے بجائے اس تنازعات کی آگ کے شعلے کو بھڑکایا.

امریکی خاتون نے کہا کہ امریکہ نے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے ساتھ دنیا کو اس بات کا ثابت کردیا کہ وہ قابل بھروسا شراکت دار نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے صہیونی وزیراعظم نیٹن یاہو کہ خود سینکروں ایٹمی بموں کا مالک ہے، کے بیانات کی پیروی کردیا ہے.

انہوں نے بتایا کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے خلاف صہیونی وزیر اعظم کے من گھرٹ بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اب تک 11 بار ایران جوہری معاہدے کی دیانتداری کی تصدیق کی ہے.

خاتون امریکی عھدیدار نے کہا کہ ایران، جوہری معاہدے کے مذاکرات کے آغاز سے تمام پابندیوں کے خاتمہ چاہتا تھا لیکن امریکی اندرونی پالیسی کی تبدیلی کے ساتھ اس ملک نے جوہری معاہدے پر اپنے تمام وعدوں کی خلاف ورزی کی اور یہ اقدام دنیا میں امریکی کی پوزیشن کی کمزوری کا باعث ہوگیا.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں میں ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا.

ٹرمپ نے ایسے وقت میں جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا جب عالمی جوہری ادارہ 11 مرتبہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے اور معاہدے کے دوسرے فریق بالخصوص یورپ اب بھی اسے بچانے کے لئے پُرعزم ہے.

یاد رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کے بعد ایرانی صدر نے جرمن چانسلر 'انجیلا مرکل' اور ترک صدر 'رجب طیب اردوان' کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں میں الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کے پاس ایران جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ اور اپنے وعدے نبھانے سے متعلق وقت بہت کم ہے.

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@