افغانستان کو عالمی تنازعات کا مرکز نہیں بننے دینا چاہئے: ایرانی وزیر دفاع

تہران، 13 مئی، ارنا – ایرانی وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا ہے کہ افغانستان کو عالمی اور علاقائی مقابلوں کی جگہ کے بجائے علاقائی تعاون کے لئے مرکزی نقطہ ہونا چاہئے.

یہ بات بریگیڈیئر جنرل 'امیر حاتمی' نے گزشتہ روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے افغان ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل 'طارق شاہ بہرامی' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت افغانستان کے ساتھ تمام شعبوں سمیت سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، سیکورٹی، دفاعی اور فوجی شعبوں میں باہمی تعاون پر زور دے رہے ہیں.

جنرل حاتمی نے افغانستان میں داعش دہشتگردوں کے پھیلانے کو ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ داعش امریکہ اور سامراجی طاقتوں کے ایک سیکورٹی آلہ ہے لہذا ان دہشتگردوں کی تباہی ایرانی حکومت اور مسلح افواج کی اہم پالیسیاں ہے اور اس حوالے سے باہمی تعاون کے لئے تیار ہیں.

انہوں نے گزشتہ دوران سے اب تک امریکہ کے ناقابل بھروسہ ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں سے امریکہ ہمارے ملک کے خلاف غیرانسانی سازشیں کر رہا ہے.

ایرانی وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا کہ افغانستان، شام، عراق اور بحرین کے مظلوم عوام کی انسانی تباہی کے علاوہ یمن کے بحران اسلامی دنیا کے سب سے بڑا مشکل ہے جو اس ملک کے نہتے عوام روزانہ سعودیوں کے بموں اور میزائل حملوں کا شکار ہو رہے ہیں.

افغان وزیر دفاع نے کہا کہ ہماری قوم اور حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلسل حمایت اور امداد کا شکریہ ادا کر رہی ہے.

جنرل شاہ بہرامی نے کہا کہ اس دورے سے ہمارا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور افغانستان میں سلامتی قائم کرنے کی سہولیات کی فراہمی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، دفاعی اور فوجی شعبوں میں دونوں ممالک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے.

انہوں نے افغانستان کی بدامنی اور اس ملک کی تقسیم کو خطے میں دشمنوں کا مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دشمنوں کو اپنے ملک کے ذریعہ ہمسایہ ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سازش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے.

انہوں نے کہا کہ چابہار بندرگاہ کے اقتصادی منصوبہ ایک تعمیری پروگرام ہے جس کا خیر مقدم کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ خطے میں دہشتگردوں کی موجودگی بدامنی اور عدم استحکام کا باعث بنتی ہے لہذا ہم اپنے ملک میں ان کی شکست کے لئے ایران کے تجربات سے استعمال کریں گے.

انہوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں ایک طاقتور ملک ہے اور ہم اپنی سلامتی کی فراہمی کے لئے اس کی مکمل حمایت چاہتے ہیں.

شاہ بہرامی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون بڑھانے کے مقصد سے دستخط ہونے والے معاہدے اور مشترکہ کمیشن کے انعقاد کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں مزید مضوبط ہوگا.

تفصیلات کے مطابق، افغان وزیر دفاع ہفتہ کے روز اپنے ایرانی ہم منصب کی دعوت کی بنا پر ایک فوجی وفد کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@