جوہری معاہدے کا تسلسل ایران کے مفادات کی فراہمی پر منحصر ہے: ظریف

بیجنگ، 13 مئی، ارنا – ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صدر مملکت کے بیانات کے مطابق، ہم کسی بھی صورتحال کے سامنے کے لئے تیار ہیں اور جوہری معاہدے کا تسلسل ملکی مفادات کی فراہمی پر منحصر ہے.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے آج بروز اتوار چینی دارالحکومت بیجنگ کے ائیرپورٹ پہنچنے کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے چین، روس اور یورپ کے دورے کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس ممالک کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں جو جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایسے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے.

ظریف نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد یورپی یونین اپنی مسلسل درخواستوں کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ایران کے شامل رہنے پر زور دے رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کو ضمانت دینا چاہیئے کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے باوجود ایرانی قوم کے مفادات فراہم ہوجائے گا.

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے حالیہ اقدام کے بعد یورپی ممالک کے اہم اقدام ایران کے مفادات کی فراہمی کی ضمانت دینا ہے.

انہوں نے چین کے دورے سے اپنے مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کرکے ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے پر تبادلہ خیال کریں گے.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری معاہدے سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں اور چین ہمارے ملک کے سب سے بہترین شراکت داری ملک ہے.

تفصیلات کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف آج بروز اتوار اپنے چینی ہم منصب 'وانگ یی' اور حکام کے ساتھ جوہری معاہدے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بیجنگ پہنچ گئے.

چین میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر 'علی اصغر خاجی' نے چینی ائیرپورٹ میں ظریف کا استقبال کیا.

ظریف نے صدر روحانی کے حکم کی مبنی پر آج بروز اتوار جوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کے ساتھ مذاکرات کے لئے چین، روس اور بیلجیم کے دورے کا آغاز کیا.

ایرانی وزیر خارجہ چین کے دورے کے بعد روسی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لئے ماسکو کا دورہ کرکے منگل کے روز برسلز میں فرانس، جرمن اور برطانوی ہم منصبوں اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ 'فیڈریکا مغرینی' کے ساتھ مشترکہ نشست میں شرکت کرے گا.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@