ایرانی قوم کے سامنے ٹرمپ کی کوئی اوقات نہیں: تہران امام جمعہ

تہران، 11 مئی، ارنا - ایرانی دارالحکومت کے امام جمعہ نے کہا ہے کہ جیسا کہ وطن عزیز کے اعلی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے حالیہ خطاب میں فرمایا کہ نہ امریکہ اور نہ ہی ٹرمپ میں ایرانی قوم کے خلاف قدم اٹھانے کی جرات ہے اور نہ ہی ان کی کوئی اوقات ہے.

یہ بات آیت اللہ 'سید احمد خاتمی' نے آج تہران میں نماز جمعہ کے ایک عظیم اجتماع میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد قائد اسلامی انقلاب کے حالیہ خطاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکام کے لئے آج کے بعد ایک بڑا امتحان یہ ہے کہ ایرانی قوم کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عملی اقدامات کے ذریعے اور ذرائع ابلاغ میں ایرانی قوم کی عزت کو ہر صورت میں یقینی بنانا ہوگا.

تہران کے امام جمعہ نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ تقریر میں ایرانی عوام کے خلاف جھوٹی باتیں کہیں، توہین آمیز بیانات دئے اور قوم پر بہتان لگادیا تاہم ان ہرزہ سرائیوں کا صرف ایک ہی جواب ہوسکتا ہے جیسا ایران کے عظیم رہنما نے گزشتہ دنوں فرمایا کہ ایرانی قوم کے سامنے لئے ٹرمپ کی کوئی اوقات نہیں ہے.

ملکی مسائل اور جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات کا حل امریکہ سے تعلقات نہیں بلکہ اللہ رب العزت کو یاد کرنا اور اس پر یقین رکھنا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے فضل سے ایران کے باشعور عوام اور ہمارے سنجیدہ رہنما کی بدولت ہم تمام مشکلات اور مسائل پر قابو پائیں گے.

ایران جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی اور اس سے حاصل ہونے والے سبق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین و ملک کے دشمن ہرگز قابل بھروسہ نہیں اور نہ ہی ان پہ بھروسہ کرنا چاہئے. جن لوگوں کا نہ دین اور نہ ایمان ہے وہ ہرگز عقیدے اور عدوں کا پابند نہیں رہیں گے.

آیت اللہ خاتمی نے مزید کہا کہ آج امریکہ کو نفی اور اب یورپی یونین پر اعتماد کیا جارہا ہے، جبکہ امریکہ کی وعدہ خلافی میں یورپ بے قصور نہیں، یورپی ممالک نے بھی وعدہ خلافی کی ہے جبکہ انھوں نے ایران میں سرمایہ کاری کرنی تھی.

انہوں ںے کہا کہ قائد انقلاب نے آخری مرتبہ کے لئے مہلت دی ہے، انھی چند ہفتوں کی ملہت میں اگر یورپی فریق نے امریکی علیحدگی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا تو ٹھیک دوسری صورت میں ایرانی عوام اس معاہدے میں ہرگز شامل نہیں رہیں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@