اگر دوسرے فریق ہمیں ضمانت دے تو جوہری معاہدے کو بچایا جاسکتا ہے: ایران

تہران، 11 مئی، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ اگر ایرانی مفادات کے تحفظ اور امریکی علیحدگی سے ہونے والے نقصات کے ازالے سے متعلق دوسرے فریقین ہمیں ضمانت دیں تو اس معاہدے کو بچایا جاسکتا ہے.

یہ بات ایرانی وزیر خارجہ کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور 'سید عباس عراقچی' نے تہران کے دورے ہر آئے ہوئے ان کے روسی ہم منصب 'سرگئی ریابکوف' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

فریقین نے اس موقع پر جوہری معاہدے سے متعلق تازہ ترین صورتحال اور امریکہ کے بغیر اسے جاری رکنھے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا.

اس موقع پر سید عباس عراقچی نے کہا کہ اگر جوہری معاہدے کے دیگر فریقین ایران کو فیصلہ کن ضمانت دیں تو اس معاہدے کا تحفظ ممکن ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کو بچانے کے مقصد سے تین یورپی ممالک سمیت چین اور روس کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا.

نائب روسی وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے اس فیصلے سے عالمی اور خطی امن و سلامتی خطرے میں پڑگیا.

انہوں نے مزید کہا کہ روس، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے پُرعزم ہے.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.

ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@