ایرانی صدر کا جرمن چانسلر اور ترک ہم منصب سے رابطہ، امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنے پر زور

تہران، 11 مئی، ارنا - صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکیوں کو پتہ چلنا چاہئے کہ انھیں کسی بھی عالمی معاہدوں سے بے جا نکلنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی.

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے جرمن چانسلر 'انجیلا مرکل' اور ترک صدر 'رجب طیب اردوان' کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں میں الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے کیا.

صدر روحانی نے اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے.

انہوں ںے مزید کہا کہ امریکہ کہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ اپنے اندرونی قوانین کو دوسرے ممالک پر تھوپ دے. ایران اور ترکی ایک دوسرے کے برادر ملک ہیں لہذا وہ باہمی تعاون سے مختلف شرائط میں ایسے غیرقانونی اقدامات کا مقابلہ کریں گے.

ترک صدر نے اس موقع پر ایران جوہری معاہدے کو دنیا کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یقینا ٹرمپ کے فیصلے سے امریکہ ہارگیا اور یہ ایک سراسر غلط فیصلہ تھا.

ایرانی صدر نے جرمن چانسلر کے ساتھ بھی ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین سمیت جرمنی، برطانیہ اور فرانس جوہری معاہدے میں ایران کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں.

انہوں نے یورپی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ امریکہ کی علیحدگی کے بعد یورپی ممالک جوہری معاہدے کے حق میں واضح مؤقف اپنائیں.

ڈاکٹر روحانی نے انجیلا مرکل کو جرمنی کی دوبارہ چانلسر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران، جرمنی کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کا خیرمقدم کرتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے میں ایرانی مفادات جس میں تیل، گیس، پیٹرو کیمیل مصنوعات کی فروخت اور بینکاری تعلقات ہیں، کی مکمل حفاظت ہونی چاہئے.

اس موقع پر جرمن چانسلر نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل وقت ہے جسے سنجیدگی کے ساتھ حل کرنا ہوگا.

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کا تحفظ یورپ کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@