ایران جوہری معاہدہ کامیاب سفارتی سمجھوتے کی مثال ہے: برطانوی سیاستدان

لندن، 10 مئی، ارنا - برطانوی پارلیمنٹ میں ایران برطانیہ فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین نے جوہری معاہدے کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ دنیا میں ایک کامیابی سفارتی سمجھوتے کی مثال ہے جسے طویل عرصے کے مذاکرات کے بعد حاصل کیا گیا ہے.

یہ بات سنیئر برطانوی سیاستدان 'رچرڈ بیکن' نے جمعرات کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے فیصلے سے خطے میں عدم استحکام اور تناؤ میں اضافہ ہوگا.
انہوں نے کہا کہ یہ بات نوشتہ دیوا تھی کہ جوہری معاہدے کا مطلب نہ نہیں تھا کہ ایران اور مگرب کے درمیان تمام اختلافات کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس کا مقصد ایران کے جوہری مسئلے کو حل کرنا تھا اور یہ عمل اب تک کامیاب رہا ہے.
برطانوی سیاستدان کا کہنا تھا کہ ان کی نظرمیں ایران جوہری معاہدے دنیا کے پیچیدہ مسائل اور ممالک کے درمیان اختلافات کو پُرامن اور سفارتی کاوششوں کے تحت حل کرنے کی روشن مثال ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے الگ ہونے کے باوجود جوہری معاہدہ ختم نہیں ہوگا بلکہ اس معاہدے کے دیگر فریقین کی جانب سے اس میں شامل رہنے کے بیانات خوش آئند ہیں.
رچرڈ بیکن نے خبردار کیا کہ امریکی علیحدگی کے بعد یہ مطالبہ سامنے آئے گا کہ جوہری معاہدے کے دیگر فریقین یعنی ایران، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین اس معاہدے کو بچانے کے لئے مزید محنت کریں.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران برطانیہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین رچرڈ بیکن ان 500 برطانوی نمائندوں میں شامل تھے جنہوں ںے اپریل میں ایک خط کے ذریعے سے امریکی اراکین کانگریس پر زور دیا کہ ایران جوہری معاہدے کو بچائیں.
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا.
ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.
انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@