جوہری معاہدہ: ٹرمپ فیصلہ غیرمنطقی ہے: سابق برطانوی سفیر

لندن، 10 مئی، ارنا - عالمی جوہری توانائی ادارے میں تعینات سابق برطانوی مندوب نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے نکلنے سے متعلق امریکی صدر کا فیصلہ غیرمنطقی ہے.

یہ بات 'پیٹر جینکنز' نے جمعرات کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نام نہاد جوہری ھتھیاروں تک پہنچنے سے روکنے کے لئے جوہری معاہدے سے نکل گیا مگر ٹرمپ نے شوشا کے علاوہ کچھ نہیں کہا.
انہوں نے کہا کہ ایسے کوئی ثبوت نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران جوہری ھتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے.
سابق برطانوی سفیر نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف صہیونی وزیراعظم کے حالیہ دعوے کو دوہرایا اور اس کے سوا کوئی نئی بات نہیں تھی.
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں مطمئن ہو کر بات کررہا تھا جیسا کہ یورپی ممالک اس کا ساتھ دے گا مگر میں امید کرتا ہوں کے یورپی ممالک ایسا نہیں کریں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے پر ازسر نو مذاکرات ممکن نہیں اور ہمیں یہ نہیں لگتا ہے کہ ایران، جوہری معاہدے کے تحت اپنی علاقائی سرگرمیوں اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کرنے پر تیار ہو.
پیٹر جینکنز نے کہا کہ ایران نے خیرسگالی اور اچھی نیت سے 2015 کو جوہری معاہدے پر دستخط کردئے اور یہ توقع کی کہ دوسرے مغربی ممالک بھی اس معاہدے پر قائم رہیں گے تاہم ایران، امریکی صدر کی علیحدگی سے نا امیدی کا شکا ہوا ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@