ایران جوہری معاہدہ: امریکی فیصلہ پاکستان کے مفاد میں ہرگز نہیں

اسلام آباد، 10 مئی، ارنا - پاکستان کے اردو اخبار 'نوائے وقت' کے اداریہ 'یہ امریکی فیصلہ ہمارے مفاد میں ہرگز نہیں'، پیش نظر ہے. ٹرمپ کی ایران کیساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی سے ان کے نیٹو اتحادی بھی تشویش کا شکار ہے.

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کردیا ہے.
ٹرمپ کے اس اعلان پر جس انداز میں ایٹمی معاہدہ کے فریق دیگر ممالک اور یورپی یونین کے علاوہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا اور اس معاہدہ کو برقرار رکھنے کیلئے توقعات ظاہر کی گئی ہیں‘ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے بغیر سوچے سمجھے اور اس کے ممکنہ منفی اور مضر اثرات کا جائزہ لئے بغیر محض اپنی کہی ہوئی بات کی ”لاج“ رکھنے کیلئے یہ اعلان کیا ہے.
ٹرمپ کا یہ اعلان درحقیقت ان کے اس بیان کا تسلسل ہے جو گزشتہ سال انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ اسلامی نیٹو سربراہی کانفرنس کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے دیا تھا. اس وقت بھی انہوں نے ایران کو دہشت گرد ملک قرار دیا اور مسلم ممالک سمیت پوری اقوام عالم پر ایران سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دیا. ان کا یہ اعلان درحقیقت سعودی عرب اور یمن کے تنازعہ میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان تھا جس کے بعد سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید گہرے ہوئے. اسی تناظر میں اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ٹرمپ کے گزشتہ روز کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا ہے جس میں اقوام عالم اور خطے کے مفادات کے بجائے ذاتی مفادات کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے.
ٹرمپ کے متذکرہ اعلان سے علاقائی اور عالمی امن کو لاحق ہونیوالے سنگین خطرات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلہ کے ساتھ کھڑا ہونا عرب دنیا کے تنازعہ میں خود کو مکمل غیرجانبدار رکھنے کے فیصلہ کی خلاف ورزی ہوگی جبکہ پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنیاد پر یمن جنگ کے حوالے سے ایران یا سعودی عرب میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑے ہونے کے متحمل نہیں ہوسکتا ہے. اس طرح ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ سے نکلنے کا اعلان سب سے زیادہ پاکستان کے لئے آزمائش ہے.
امریکی ڈیموکریٹ اوبامہ کے پہلے دور حکومت میں جب ایران پر ایٹمی افزودگی حاصل کرنے کے الزام کے تحت پہلی بار امریکی ایماء پر اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں اس وقت پاکستان ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی تنصیب کا معاہدہ کرچکا تھا اور اس پر ہوم ورک جاری تھا. چنانچہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کے باعث امریکی فرنٹ لائن اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کیلئے متذکرہ معاہدے کو عملی جامہ پہنانانا ممکن ہوگیا حالانکہ اس وقت توانائی کے سنگین بحران کے پیش نظر پاکستان ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل پاکستان کی ضرورت تھی. ان پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا جبکہ امریکہ نے توانائی کے سنگین بحران پر قابو پانے کیلئے پاکستان کسی قسم کی معاونت بھی نہ کی بلکہ ایران پر پابندیوں کے بعد پاکستان سے ڈومور کے تقاضے بڑھا دیئے گئے.
یہ طرفہ تماشا ہے کہ امریکہ نے تو 2015ء میں اوبامہ ہی کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرلیا جس کی بنیاد پر اس پر عائد اقتصادی پابندیاں بھی ہٹ گئیں‘ اس کے باوجود پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے پس و پیش سے کام لیا جاتا رہا. ایران کی جانب سے اس معاہدے کی تکمیل کیلئے پاکستان کو متعدد مراعات کی پیشکش بھی کی گئی جبکہ ایران نے اپنی جانب گیس پائپ لائن کی تنصیب مکمل بھی کرلی مگر پاکستان امریکی ڈراوے پر بدستور بھیگی بلی بنا بیٹھا رہا.
اب ٹرمپ نے محض اپنی انا کو تسکین پہنچانے کیلئے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکالنے کا اعلان کیا ہے تو اس سے پاکستان کے لئے مزید الجھنیں پیدا ہو جائیں گی. ٹرمپ کے فیصلہ پر ان کے اتحادی بھی ان کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے جنہوں نے نہ صرف امریکہ کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے پر تشویش ظاہر کی ہے بلکہ اس معاہدے کو برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے. ایسا ہی ردعمل یورپی یونین کی جانب سے سامنے آیا ہے جس کے رکن ممالک کی سی پیک کے ساتھ وابستگی سے پاکستان کے لئے ترقی و خوشحالی کے دروازے کھلنے ہیں مگر پاکستان کے لئے یہ بڑی آزمائش ہے کہ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہو کر پاکستان، ایران کی ناراضگی کے بھی متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان اس وقت جن اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے اس کے تناظر میں پاکستان نے اپنی سلامتی کے تقاضوں کے تحت بالخصوص مسلم دنیا میں اپنا غیرجانبداری والا تاثر برقرار رکھنا ہے.
یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے سے باہر نکل کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے تقاضوں کی نفی کی ہے جس سے امن و سلامتی کو لاحق خطرات مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں کیونکہ اب اپنی اپنی بقاء و سلامتی کیلئے اقوام عالم میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونا فطری امر ہوگا. امریکی نیٹو اتحادیوں نے اسی تناظر میں ٹرمپ کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی دیگر ممالک پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے پر ہی زور دیا ہے. اگر ٹرمپ تعمیری اور مثبت مقاصد کے بجائے محض اپنے ذاتی مفادات اور مسلم دشمن ایجنڈا کی بنیاد پر ایران پر پابندیاں لگوانے کے درپے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد روک کر پاکستان کو بھی اقتصادی عالمی پابندیوں میں جکڑنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں تو پاکستان بہرصورت ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلہ کے مقابل اپنے ملکی سلامتی کے تقاضوں اور قومی مفادات کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ ٹرمپ آج ایران کے بارے میں اپنے اعلانات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں تو کل کو وہ ہمارے بارے میں کئے گئے اعلانات کو بھی عملی جامہ پہناتے نظر آئینگے. اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ امریکی اعلان پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے پاکستان کی قومی سیاسی عسکری قائدین سر جوڑ کر بیٹھیں اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے اور پھر اس کی پارلیمنٹ سے توثیق کرائی جائے.
نوائے وقت کے مطابق، امریکہ اب پاکستان کا ایسا دوست ہرگز نہیں کہ ہر معاملہ میں اس کی ہاں میں ہاں ملائی جائے. پاکستان کو اپنے مفادات کو بہرصورت مقدم رکھنا ہوگا.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@