فرانس اب بھی جوہری معاہدے پر قائم/فرانسیسی صدر کا جلد صدر روحانی سے رابطہ متوقع

تہران، 9 مئی، ارنا - فرانسیسی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے فیصلے کے ردعمل میں کہا کہ فرانس اب بھی جوہری معاہدے کے مطابق قائم ہے اور اس حوالے سے فرانسیسی صدر جلد اپنے ایرانی ہم منصب سے رابطہ کریں گے.

یہ بات جینز یویس لی ڈرائن نے جرمن میڈیا آر ٹی ایل ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر شدید افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امریکی منطق شدید تنقید پر مبنی اور یکطرفہ ہے.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر امانوئل ماکرون جلد اپنے ایرانی ہم منصب صدر حسن روحانی سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کریں گے.
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا.
ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.
انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.
271*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@