عالمی جوہری ادارے نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام کو شفاف قرار دے دیا

ویانا، 9 مئی، ارنا - بین الاقوامی جوہری توانائی ادارے (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر من و عن عمل کیا ہے اور یہ ادارہ ایک بار پھر ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرتا ہے.

یہ بات جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ یوکیا امانو نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی، عالمی ایٹمی معاہدے میں آنے والی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھ کر نگرانی کرتی ہے.

یوکیا آمانو نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) 2015 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی درخواست کی بنا پر ایرانی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کا کام کر رہا ہے.

آمانو نے کہا کہ ایران نے اب تک جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے تمام وعدوں پر من وعن عمل درآمد کیا ہے.

خیال رہے کہ اسلامی کونسل کی جانب سے جوہری معاہدے کی توثیق کے بعد عالمی جوہری ادارہ بھی اب تک 11 مرتبہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے.

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا.

ٹرپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@