حکومت، جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کا مقابلہ کرے: اراکین ایرانی مجلس

تہران، 9 مئی، ارنا - ایرانی اراکین مجلس (پارلیمنٹ) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے فیصلے کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائے.

ایرانی اراکین مجلس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی حکمت عملی پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے اس کے نفاذ کا آغاز کرے.

پارلیمنٹ بورڈ کے ایک ممبر احمد امیرآبادی نے اراکین پارلیمنٹ کے متفقہ بیان کو پڑھ کر سنایا.

اس بیان کے مطابق، امریکی صدر بین الاقوامی قوانین کے خلاف ایٹمی معاہدے سے نکل گیا جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ، صہیونی ریاست، منافقین اور عرب کے کچھ رجعت پسند حکام سب ایران مخالف فرنٹ میں شامل ہیں.

اعلامیے کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ جوہری حقوق کی پاسداری کے علاوہ دنیا ممالک کے ساتھ بھائی چارے، دوستی اور سفارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے.

اس بیان نے کہا کہ حقیقت میں ٹرمپ کے یہ اقدام روس اور چین سمیت جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کے لیے ایک بڑا سخت امتحان ہے اور ان ممالک کو امریکہ کے فضول مطالبات کے خلاف مزاحمت کرنا چاہیے.

ایرانی پارلیمنٹ کے اراکین نے اس بیان میں کہا کہ ایرانی اراکین مجلس اس حوالے سے حکومت کا ساتھ دے کر جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے ملک کی خارجہ پالیسی کے اصولوں اور قومی مفاد کے فریم ورک میں ایک مناسب فیصلہ اپنائیں گے.

اس بیان کے مطابق، آج دنیا کے اکثر ممالک ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کی مذمت کر رہے ہیں اور ہماری قوم دفاع مقدس کے دوران کی طرح ایک بار پھر کہتا ہے کہ امریکہ کوئی غلط کام نہیں کر سکتا ہے.

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ آج رات ایران جوہری معاہدے پر حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.

ٹرمپ نے آج رات ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.

یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی صدر کی علیحدگی کے ردعمل میں کہا ہے کہ یورپی ممالک اس معاہدے کا پابند رہیں گے.

9410٭274٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@