ایران جوہری معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی سنگین اسٹریٹجک غلطی قرار

نیو یارک، 9 مئی، ارنا - سابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ امریکہ کی سنگین اسٹریٹجک غلطی ہے.

یہ بات 'فرینک جی وسنر' جو بین الاقوامی امور کے لئے امریکی وزیر خارجہ سابق معاون رہ چکے ہیں، نے بدھ کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ یورپ، چین اور روس اس معاہدے میں شامل رہتے ہوئے اس کی کامیابیوں کا دفاع کریں گے.
فرینک جی وسنر جنہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران جوہری مذاکرات میں فعال کردار ادا کیا تھا، کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بحالی اور مشرق وسطی میں بحرانوں کے خاتمے کے لئے ایک سنہری موقع تھا.
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی علیحدگی سے خطی اور عالمی امن و سلامتی داؤ پر لگے گا اور اس اقدام سے جوہری عدم پھیلاؤ کے عمل بھی متاثر ہوگا.
امریکہ کے سابق نائب وزیر خارجہ جو مصر، فلپائناور بھارت میں بھی سفیر رہ چکے ہیں، نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے بعد امریکہ اور یورپ کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا.
فرینک جی وسنر نے اس امید کا اظہار کیا کہ یورپ سمیت چین اور روس جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کی خاطر سنجیدگی سے کام کرتے رہیں کے اور اس کے علاوہ ایران کے ساتھ عالمی اقتصادی تعاون کا سلسلہ بھی جاری رہے گا.
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا.
ٹرمپ نے ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.
صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے اعلان کے ردعمل میں کہا کہ آج سے یہ معاہدہ ایران اور اس پر دستخط کرنے والے 5 فریقین کے درمیان رہے گا.
انہوں نے ایرانی قوم کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر موجودہ صورتحال میں ہمارے قومی مفادات کو تحفظ نہ ملے تو وہ ایک بار پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ریاست اور حکومت کے تعمیری فیصلوں سے آگاہ کریں گے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@