یورپی یونین ایران جوہری معاہدے میں شامل رہے گی: فیڈریکا مغرینی

تہران، 9 مئی، ارنا - یورپی یونین کی چیف خارجہ پالیسی نے ایران جوہری معاہدے سے امریکی صدر کی علیحدگی کے ردعمل میں کہا ہے کہ یورپی ممالک اس معاہدے کا پابند رہیں گے.

یہ بات 'فیڈریکا مغرینی' نے آج رات امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے نکلنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ اسلامی جمہوریہ ایران اور دنیا کے تمام ممالک کے درمیان 12 سالہ مذاکرات کا نتیجہ تھا.
مغرینی نے کہا کہ ہم ایرانی حکام سے کوئی بھی اس معاہدے کے خاتمے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کرتی ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین اپنے مفادات کے مطابق عمل کرے گی.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ جاری رکھے گا اور کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ہتھیاروں کو پیدا نہیں کرے گا.
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ ہم عالمی برادری اور اس معاہدے کے دوسرے فریقین سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد اس کو جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہیں.
تفصیلات کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیا.
ٹرمپ نے آج رات ایران کے خلاف پرانی ہرزہ سرائیوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے حکم نامے پر دستخط کریں گے.
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ آج رات ایران جوہری معاہدے پر حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران اور عالمی قوتوں بشمول امریکہ کے درمیان 2015 کو جوہری معاہدہ طے پاگیا تھا اور اس کے تحت کوئی ایک ملک یکطرفہ طور پر اسے ختم نہیں کرسکتا.
ٹرمپ نے ایسے وقت میں جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا جب عالمی جوہری ادارہ 11 مرتبہ ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے اور معاہدے کے دوسرے فریق بالخصوص یورپ اب بھی اسے بچانے کے لئے پُرعزم ہے.
9393٭274٭٭
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@