ٹرمپ کے فیصلے کا مطلب ایران جوہری معاہدے کا خاتمہ نہیں: روسی مندوب

ویانا، 8 مئی، ارنا - اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈکوارٹر میں تعینات روس کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق امریکی صدر کے متوقع فیصلہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن یہ فیصلہ جوہری معاہدے کے خاتمے کا مترادف نہیں ہے.

یہ بات میخائل اولیانوف نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ایران جوہری معاہدے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے لئے سب فریق کے ممالک نے کوشش کی اور اس کی حفاطت کے لئے بھی کوشش کرتے رہیں گے.
روسی مندوب نے جوہری معاہدے پر ایران کی مکمل عمل درآمد اور تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا 10 بار اس معاہدے پر ایران کی مکمل تعاون کی تایید اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جوہری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا ہے.
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ثابت کیا ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کو ختم کرسکتا ہے لہذا دنیا میں امریکہ کی امیج پر برا اثر پرسکتا ہے.
اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈکوارٹر میں تعینات روس کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ اگر صدر ٹرمپ سے پوچھا جائے کہ وہ جوہری معادے کو ختم کرکے کیا کرنے والے ہیں تو یقینا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا.
انہوں نے کہا کہ ایرانی جوہری معاہدے سے ممکنہ امریکہ کی علیحدگی کے پیش نظر ہمارا مشورہ یہ ہے کہ ایران اس فیصلے کے خلاف جلد بازی نہ کریں کیوں کہ اس سے مسائل اور پیچیدہ ہوں گے.
روسی مندوب نے کہا ہم ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کی بحالی کے سخت خلاف ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ روس ایرانی جوہری معاہدے میں کوئی بھی تبدیلی کی سخت خلاف ہے کیوں کہ یہ معاہدہ سالوں پر مبنی مذاکرات کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے اور اس میں کمی بیشی کرنے کی کوئی بھی کنجائش نہیں ہے.
صیہونی حکومت کا ایران کے خلاف منفی تشہیراتی مہم کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ بے بنیاد الزامات ہے ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ صرف بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ہی اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرسکتا ہے.
1*271**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@