امریکہ جوہری معاہدے سے نکل کر دنیا میں اپنی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا: سابق پاکستانی سفیر

اسلام آباد، 8 مئی، ارنا - عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں تعینات سابق پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ ایک عالمی سمجھوتہ ہے لہذا امریکہ اس سے نکل کر دنیا میں اپنی ہی ساکھ کو ماضی سے زیادہ نقصان پہنچائے گا.

یہ بات 'سید علی سرور نقوی' نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل کرے دوسری صورت میں عالمی امن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا کی حکومتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی بھی کوئی اہمیت نہیں رہے گی.
سابق پاکستانی سفیر جو بین الاقوامی مرکز برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز (CISS) کے صدر بھی ہیں، نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدہ علاقائی امن و سلامتی کی بالادستی کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے لہذا امریکہ اس سے نکل کر دوسرے ممالک میں بدامنی کا باعث نہ بنے.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے متعلق ایران کی کارکردگی شفاف رہی ہے، ایران کی کارکردگی کو عالمی حمایت بھی حاصل ہے لہذا دوسرے ممالک بشمول امریکہ اس معاہدے کے نفاذ کے لئے اپنی ذمے داریوں پر قائم رہیں.
علی سرور نقوی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے متعلق عالمی جوہری ادارے کی مثبت رپورٹ کو نظرانداز کرنے افسوسناک ہے. امریکہ کی جوہری معاہدے سے علیحدگی دنیا کے دیگر معاہدے اور کنوینشن بھی متاثر ہوں گے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@