ایران جوہری معاہدہ، امریکی علیحدگی سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے: سابق چینی سفیر

بیجنگ، 8 مئی، ارنا - ایران اور فرانس میں تعینات سابق چینی سفیر نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے خلاف امریکہ کے کسی بھی طرح کے منفی اقدامات سے خطے اور دنیا میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے.

یہ بات 'شائولی منگ' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.



شائولی منگ انقلاب کے دوران وہ ایران میں بطور چین کے سفیر تعینات تھے اور 1979 میں رونما ہونے والے دنیا کے اس تاریخی واقعے کو قریب سے دیکھا.



انہوں نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ایسا کیا تو نہ صرف عالمی امن و سلامتی پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے بلکہ اہم عالمی مسائل پر مذاکرات کے عمل بھی کھٹائی میں پڑے گا.



سابق چینی سفیر نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ ایک عالمی سمجھوتہ ہے لہذا اسے ختم کرنے کی دھمکیاں تعمیری عمل نہیں ہے.



ان کے مطابق ایران جوہری معاہدے کے خلاف امریکہ کے منفی اقدامات یقینا عالمی اعتماد پر کاری ضرب کے مترادف ہے.



چین کے بین الاقوامی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے سنیئر ریسرچ فیلو نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد حاصل ہوا ہے جس کو عالمی جوہری ادارہ سمیت چین، روس اور دیگر یورپی طاقتور ممالک کی حمایت حاصل ہے.



انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے نے متعدد بار ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے. چین بھی اس حوالے سے ایران کے ساتھ تعاون کا خواہاں ہے مگر ان تمام صورتحال کے باوجود امریکہ اپنے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے.



یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.



دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.



274**



ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@