ٹرمپ مشرق وسطی کی سلامتی کو نشانہ بنارہا ہے: روسی تجزیہ کار

ماسکو، 8 مئی، ارنا - روس کے سیاسی کارکن اور عالمی امور کے تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ آج عالمی برادری ایران جوہری معاہدے کے خلاف امریکی پالیسی اور اقدامات کی حمایت نہیں کرتی کیونکہ ٹرمپ نے مشرق وسطی کے امن و استحکام کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے.

یہ بات روس کی سیاسی تحریک اینٹی گلوبلائزیشن کے سربراہ 'الیگزینڈر ایوانوف' نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر مشرق وسطی کو مزید بدامنی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں اور جوہری معاہدے کے خلاف اس کے منفی اقدامات کا مقصد ہی خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کرنا ہے.
روسی سیاسی رہنما کا کہنا تھا کہ امریکی رہنما اس بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ دنیا میں یکطرفہ اقدامات کا دور ختم ہوچکا ہے مگر وہ دنیا پر اپنے تسلط کا سلسلہ جاری رکھنے کی سر توڑ کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں.
انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مختلف سیاسی مفادات کی خاطر ایران جوہری معاہدے کو توڑنے پر مصر ہیں جن میں سے ایک صہیونیوں کی حمایت حاصل کرنا ہے.
الیگزینڈر ایوانوف نے کہا کہ امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں صیونی لابی نے ٹرمپ کو کامیابی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی تھی. اب ڈونلڈ ٹرمپ صہیونی لابی اور اسرائیل کی حمایتوں سے متاثر ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل ہرگز نہیں چاہتا کہ ایران جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات کا خاتمہ ہو.
انہوں نے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے خلاف صہیونی وزیراعظم کے حالیہ ڈرامہ رچانے کے اقدام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف دعویٰ کررہا ہے جبکہ عالمی جوہری ادارے نے ایران کی شفاف کارکردگی کو بارہا تصدیق کرچکا ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@