گیس منصوبے کیلئے پاکستان نے ایران سے بات چیت شروع کرنے پیشکش کردی

اسلام آباد، 8 مئی، ارنا - حکومت پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے لئے ماہ رمضان سے پہلے بات چیت کے اپنا نمائندہ پاکستان بھیجے.

پاکستان کے اردو اخبار 'جنگ' کے مطابق، یہ درخواست وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے حکم پر کی گئی ہے.
وزارت پٹرلیم کے ایک سینئر افسر نے جنگ کو بتایا ہے کہ پہلے مرحلے میں پاکستان اور ایران کے حکام یہ طے کریں گے کہ گیس پائپ لائن کے منصوبے کس طرح ابتدائی شکل دی جائے.
گیس پائپ لائن منصوبے کی شرائط کے مطابق پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ دسمبر 2014 تک مکمل ہونا تھا اور پاکستان نے معاہدے کے مطابق اپنے علاقوں میں پائپ لائین تنصیب کرنی تھی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان نے دس لاکھ ڈالر یومیہ پینلٹی ادا کرنی تھی.
ذرائع کے مطابق امریکہ کی طرف عائد اقتصادی پابندیوں کے پیش نظر اس وقت کے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت گوادر سے نوابشاہ تک ایل این جی پائپ لائین بچھانی تھی اسی طر ح گوادر میں دو ٹرمینلز تعمیر ہونے تھے اور ساتھ ہی ایک چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا تھا.
روزنامہ جنگ کے مطابق، پاکستان نے ایران کو بتایا تھا کہ جب بھی امریکی پابندیاں ختم ہوتی ہیں پائپ لائن کو سرحدوں تک لے جایا جائے گا اور معاہدہ مکمل کرلیا جائے گا. تاہم ماہ رمضان سے پہلے متوقع پاک ایران بات چیت ان معاملات کے پیش نظر نہائت اہم ہے.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@