ایران کو جوہری معاہدے سے پہلے کی صورتحال میں دھکیلا نہیں جاسکتا

تہران، 8 مئی، ارنا - ایران میں بینکاری اور مالیاتی امور کے ایک ماہر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ جوہری معاہدے سے نکل بھی جائے تو ایران کو ماضی کی صورتحال میں نہیں دھکیلا جاسکتا کیونکہ اقوام متحدہ میں پہلے سے ہی منسوخ ہونے والی قراردادوں کی دوبارہ بحالی کا امکان نہیں ہے.

یہ بات 'احمد مجتہد' نے آج بروز منگل ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 2015 کو جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کے ساتھ ایرانی بینکاری اور عالمی تعلقات میں مزید مضوبطی آ رہا ہے اور ہم اس موقع کے ذریعہ اپنے بینکاری تبادلات کو انجام کرسکے ہیں.
مجتہد نے کہا کہ پابندیوں کے دوران غیرملکی کرنسیوں کی تک رسائی اور ان کی منتقلی سخت یا غیرممکن تھے مگر اب جوہری معاہدے کے ساتھ ان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے.
انہوں نے اقتصادی شعبے میں جوہری معاہدے کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران غیرملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ آٹوموٹو انڈسٹری، تیل کی برآمدات، آئل فیلڈز، ایرانی جنوبی پارس کے منصوبوں کی بحالی میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں.
انہوں نے عالمی جوہری معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ایک فریقی علیحدگی کا مسئلہ تمام فریقین سمیت اسلامی جمہوریہ ایران کی علیحدگی کے مسئلہ سے مختلف ہے. اگر امریکہ جوہری معاہدے سے نکل بھی جائے تو ایران کو ماضی کی صورتحال میں نہیں دھکیلا جاسکتا.
ایرانی بینکاری اور مالیاتی امور کے ماہر نے کہا کہ عالمی ایٹمی توانا‏ئی ادارے نے متعدد بار اپنی رپورٹ میں ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی ہے لہذا اقوام متحدہ میں پہلے سے ہی منسوخ ہونے والی قراردادوں کی دوبارہ بحالی کا امکان نہیں ہے.
انہوں نے امریکہ کے ایران مخالف قوانین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک ڈیمیٹ قانون کی بنا پر امریکی مارکیٹ میں موجود کمپنیاں اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کو روک تھام کرکے ایرانی تیل اور گیس میں سرمایہ کاری کرنے والی یورپی کمپنیاں اور بینکوں کو سزا دیا جائے گا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر یورپی ممالک امریکہ کے سامنے میں ایک مستقل موقف کا اختیار نہ کرکے ایران کے ساتھ باہمی تعاون کا خاتمہ کریں تو ان کے ایسے اقدام خود کے لئے تکلیف دہ ہوجائے گا.
انہوں نے بتایا کہ اگر امریکہ جوہری معاہدے سے نکل جائے تو اس کے ایسے اقدام یورپی ممالک کی کمزوری کی علامت ہے.
مجتہد نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے عالمی جوہری معاہدے کی علیحدگی کی صورت میں ایران پابندیوں کے دوران کی طرح چین، روس اور بعض یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو جاری رکھے گا.
انہوں نے کہا کہ دنیا کے ممالک امریکہ کے موقف کے سامنے عالمی قوانین کے مطابق عمل کریں.
تفصیلات کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
9393*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@