ایران جوہری معاہدے کیخلاف منفی پالیسی دنیا میں امریکی ساکھ کو متاثر کرے گی

نیو یارک، 8 مئی، ارنا - امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے خلاف منفی پالیسی اپنانے سے دنیا میں امریکی ساکھ کو نقصان پہنچے گا.

یہ بات پروفیسر 'اسٹیفن والٹ' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونا اس ملک کے بحران کا باعث بن سکتا ہے اس کے علاوہ دنیا بھی امریکہ پر بھروسہ کرنا چھور دے گی.
امریکی تجزیہ کار کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدے کی حقیقت کا علم نہیں یا اسے یہ نہیں پتہ کہ کیا ایران اس پر عمل کیا ہے یا نہیں.
خطے میں اسلحے کی نئے دوڑ پر انتباہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ نے کہا کہ ٹرمپ کابینہ میں جان بولٹن اور مائیک پومپیو جیسے شدت پسند اور انتہاپسند افراد شامل ہونے سے مشرق وسطی مزید بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہوگا.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@