ایران کیخلاف پابندیوں کی واپسی، جوہری معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی: امریکی تجزیہ کار

نیو یارک، 8 مئی، ارنا - امریکی ماہر جوہری امور اور آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانا جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے.

یہ بات 'ڈریل جی. کیمبیل' نے امریکی صدر کے اس بیان کے ردعمل میں کہی جنہوں نے کہا ہے کہ وہ آج بروز منگل ایران جوہری معاہدے سے متعلق اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.

ڈریرل جی. کیمبیل نے مزید کہا کہ ہم تیار ہیں. اگر امریکہ، ایران پر نئی پابندیوں کو اطلاق کرے تو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا.

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یاد رکھیں کہ ایران جوہری معاہدہ یکطرفہ نہیں بلکہ چند فریقین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے اور اس میں شامل کوئی ایک فریق اسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا.

امریکی ماہر جوہری امور نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس معاہدے کے من و عن پر عمل کررہا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.

دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@