ایران کی علاقائی طاقت نے دنیا کو مذاکرات کرنے پر مجبور کیا: عبداللہیان

تہران، 8 مئی، ارنا - اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ وطن عزیز کی علاقائی طاقت کی وجہ سے دنیا کے ممالک کو ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مجبور کردیا جس کے نتیجے میں جوہری معاہدہ طے پاگیا.

یہ بات پارلیمنٹ اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور 'حسین امیرعبداللہیان' نے پیر کے روز تہران یونیورسٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

جوہری معاہدے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ امریکی حکام کیوں جوہری ماہدے سے نکلنے پر شور مچارہے ہیں یا اس کی عارضی طور پر معطلی کیوں چاہتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ داعش کو امریکہ اور اس جیسے ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے اور بدقسمتی سے ایسی دہشتگرد تنظیموں سے ان ممالک کو فائدہ پہنچا ہے.

اعلی ایرانی سفارتکار نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سعودی عرب، عراق، شام، ترکی، ایران اور یمن میں بدامنی کو پھیلا کر جنگ کی صورتحال پیدا کی ہے اور اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کرنے کے لئے انھوں نے داعش کا استعمال کیا.

انہوں نے کہا کہ داعش کو بنانے کا ایک اور مقصد شیعہ سنی کو آپس میں لڑوانا تھا. داعش کے حامیوں نے جہاں شیعہ آبادی ہے وہاں اہل سنت کو نہیں لانا چاہتے تھے اور جہاں سنی ہوتے وہاں شیعوں پو قدغن لگانا چاہتے تھے لہذا وہ ایک ایسے خطرناک منصوبے کے ذریعے خطے کو مزید آگ کی طرف دکھیلنا چاہتے ہیں.

حسین امیر عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ایران، عراق اور شام کو داعش کے خاتمے کے لئے مدد فراہم کی جبکہ امریکیوں نے داعش کے دہشتگردوں کی پشت پناہی کی.

انہوں نے صہیونی جارحیت اور لبنان کی جغرافیائی سالمیت کو تحفظ فراہم کرنے پر حزب اللہ کی اعلی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران نے حزب اللہ کی مدد کی اور اس کے مقابلے میں حزب اللہ نے ہماری اور شام کی مدد کی جس کا مقصد داعش کا قلع قمع کرنا تھا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@