ایران جوہری معاہدے کا بھرپور ساتھ دیں گے: چین کا عزم

ویانا، 8 مئی، ارنا - چینی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران جوہری معاہدے کو بچانے کے لئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی.

اس عزم کا اظہار ویانا میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر میں تعینات چین کے مستقل مندوب 'شی جان چونگ' نے ارنا نیوز ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا.

چینی مندوب نے کہا کہ امریکہ کی جوہری معاہدے سے ممکنہ علیحدگی سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں ملے گا تاہم امریکی اقدام پر قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن چین اس معاہدے کے تحفظ کے لئے پُرعزم ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہورہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے ساتھ کیا ہونا ہے مگر ہماری امید ہے کہ یہ معاہدہ بچ جائے.

شی جان چونگ نے ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ تمام عالمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے او تخفیف اسلحلہ کے لئے ایک مثالی نمونہ ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم جوہری معاہدے کے تمام فریقین سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس معاہدے کے نفاذ پر مخلص ہوں اور اجتماعی تعاون کے ساتھ تمام مراحل کو تکمیل کریں.

چینی سفیر نے کہا کہ اس معاہدے کے خاتمے سے دنیا کو اچھا پیغام نہیں ملے گا اور نہ ہی تخفیف اسلحہ کی کوششیں کامیاب ہوں گی، شمالی کوریا کے مسئلے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے لہذا ہمیں امید ہے کہ ایران جوہری معاہدے کا تسلسل جاری رہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 مئی کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی توثیق کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر انہوں نے گزشتہ رات اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ آج اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے.

دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@