جوہری معاہدے سے نکلنا آسان نہیں، ایران پہل نہیں کرے گا: قاسمی

تہران، 7 مئی، ارنا – ترجمان ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے نکلنا کوئی آسان بات نہیں اور نہ ہی اسلامی جمہوریہ ایران اس کی خلاف ورزی میں پہل کرے تاہم ایرانی مفادات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے.

یہ بات 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ملکی اور غیرملکی صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے ابتداء سے اب تک ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی کی مسلسل باتیں کررہے ہیں جبکہ یہ کوئی آسان نہیں اور اگر ایسا کیا تو امریکی صدر ایران کے شدید ردعمل سے پچتائیں گے.
قاسمی نے کہا کہ جوہری معاہدے سے علیحدگی امریکیوں کے مفاد میں نہیں اور وہ دنیا بھر میں مزید تنہائی کا شکار ہوں گے.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی خلاف ورزی نیا مسئلہ نہیں لہذا کوئی ملک اس کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرسکتا ہے.
انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے خطے میں ایران کی سرگرمیوں کی روک تھام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور یورپ کے درمیان نیا مذاکرات موجود نہیں اور روم میں منعقدہ مذاکرات یمنی بحران کے سیاسی حل کی تک رسائی کے لئے ہمارا ملک اور چار یورپی ممالک کے درمیان میونیخ میں مذاکرات کا تسلسل تھا.
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا المناک مسئلہ یمن کا بحران ہے اور اس کے مظلوم عوام سعودی عرب کی قیادت میں اتحادیوں کے بموں کا شکار ہو رہے ہیں.
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات سے ہمارا مقصد یمنی نہتے عوام کی مدد ہے اور ہمیں امید ہے کہ رمضان المبارک مہینے میں اس مظلوم عوام کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی.
انہوں نے این پی ٹی معاہدے سے ایران کی ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے کہا کہ ہمارا سامنا بہت آپشن موجود ہیں جس کا جائزہ لیا گیا اور این پی ٹی معاہدے کے حوالے سے ہمارا فیصلہ امریکہ کی پالیسی سے متعلق ہے.
انہوں نے ظریف کی جانب سے نیویارک کے حالیہ دورے پر سابق امریکی وزیر خارجہ 'جان کری' کے ساتھ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اس دورے کے موقع پر 30 افراد سے زائد سیاسی سائنسدانوں کے ساتھ ملاقاتیں کی. جان کری امریکہ کی عوامی رائے پر موثر ہو سکتا ہے.
انہون نے ایران اور افغانستان کے درمیان اعلی سطح مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے کابل کے حالیہ دورے میں پانچ کمیٹی کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے جو مشترکہ پانچ کمیٹی دونوں ممالک کے درمیان باہمی معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے مختلف نشستوں کا انعقاد کر رہی ہیں.
قاسمی نے لبنان میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کہا کہ لبنان ایک خودمختار ملک ہے جو اس کی جمہوریت علاقائے ممالک کے لئے اچھا ماڈل ہوسکتا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس انتخابات کی حمایت کر رہا ہے.
انہوں نے عراقی پارلیمنٹ کے انتخابات میں سعودی عرب کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقائی اور غیرعلاقائی ممالک اس ملک کی صورتحال کو درہم برہم کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں اور گزشتہ دوران ان ممالک کی حمایت کے ساتھ داعش دہشتگردوں قائم کیا گیا مگر اس ملک کے بہادر عوام کے ذریعہ ان کا خاتمہ کردئے گئے.
انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے سعودی عرب علاقے کی سلامتی اور سیکورٹی نہیں چاہتا علاقے میں اپنی مداخلت کے ساتھ خطی بحرانوں کا باعث ہوگیا ہے.
انہوں نے ناجائز صہیونی ریاست کے وزیر خارجہ کی جانب سے ایرانی ایٹمی سرگرمیوں کے حوالے سے ان کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نیتن یاہو کی بے بنیاد کوششیں پر اہمیت نہیں دیتے ہیں. وہ اپنے جرائم کو چھپانے لئے ہمارے ملک کے خلاف ایسے من گھڑت الزامات لگاتا ہے.
انہوں نے کہا کہ عالمی ایٹمی توانائی ادارے نے متعدد بار اپنی رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی ہے.
قاسمی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2231 قرارداد کے مطابق امریکہ کو جوہری معاہدے میں اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنا چاہیئے.

9393*274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@