ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی کا فیصلہ غلط ہوگا: برطانوی وزیرخارجہ

لندن، 7 مئی، ارنا - برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونا بڑی غلطی ہوگی لہذا اس معاہدے کے سوا کسی اور آپشن کے استعمال سے برے اثرات مرتب ہوں گے.

یہ بات 'بورس جانسن' نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہی. مسٹر جانسن اعلی امریکی حکام کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات کرنے کے لئے اس وقت واشنگٹن کے دورے پر ہیں.
برطانوی وزیر خارجہ کے دورہ امریکہ کا ایک اہم مقصد ٹرمپ انتظامیہ کو ایران جوہری معاہدے میں شامل رکھنے کے لئے قائل کرنا ہے.
بورس جانسن نے اپنے مضمون میں کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو پُرامن دیکھنے یا اس کی جانب سے جوہری ھتھیار نہ بنانے سے متعلق اطمینان حاصل کرنے کے لئے جوہری معاہدے ایک کم نقص ذریعہ ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے میں بعض خامیاں ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ ان کو حل کیا جاسکتا ہے اسی لئے برطانیہ اس معاہدے کی خامیوں کو دور کرنے کے لئے امریکہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ کھڑا ہے.
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران نے سینٹری فیوجز کی تعداد میں دو تھائی کمی کردی اور یورینیم کی افزودگی کے 95 فیصد سے رضاکارانہ طور پر دستبردار ہوگیا. عالمی جوہری ادارے کے معائنہ کار بھی ایران کی تمام جوہری تنصیبات کی اچھی طرح نگرانی کررہے ہیں جس کا مقصد ایران کی جانب سے عسکری مقاصد کے لئے جوہری سرگرمیوں کو روکنا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے کی بدولت ایران کے حوالے سے اہم حفاظتی اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں لہذا ان حالات میں جوہری معاہدے سے الگ ہونے میں کوئی فائدہ نہیں ہے.
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ 12 مئی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دوبارہ توثیق نہیں کرتے تو پھر ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ لاگو ہو جائیں گی.
صدر ٹرمپ نے 12 مئی کی تاریخ اس لئے مقرر کی ہے تا کہ یورپی ممالک ایران کے ساتھ بقول اُن کے جوہرے معاہدے میں موجود خرابیوں کو دور کر لیں.
دریں اثناء اعلی ایرانی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ علیحدگی پر بھرپور ردعمل دیا جائے جس میں ایران کی بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی اور این پی ٹی معاہدے سے نکلنا شامل ہیں.
274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@