ایران، افغانستان کے مابین پانی کی منصفانہ تقسیم سے متعلق جلد اجلاس منعقد ہوگا: ظریف

تہران، 6 مئی، ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے دریائے ہیرمند سے ایران کو حاصل ہونے والے پانی کو تہران اور کابل کے درمیان ایک اہم موضوع قرار دیا اور کہا کہ اب تک دونوں ممالک کے درمیان دریائے ہیرمند کے پانی کی تقسیم سے متعلق 16 اجلاسں منعقد ہوئے ہیں اور اس حوالے سے تہران میں بہت جلد ایک اور نشست کا اہتمام کیا جارہا ہے.

ایرانی اراکین مجلس (پارلیمنٹ) کے افغانستان اور ایران کے درمیان بہنے والے دریائے ہیرمند کا پانی کی منصفانہ طور پر تقسیم سے متعلق کیے گئے معاہدوں پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے جواد ظریف نے کہا ہم نے ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق طی پانے والے معاہدوں کا نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے ایک دوسرے سےبات چیت کا سلسلہ جاری رکہے ہوئے ہیں.
انہوں نے کہا ایران کے صوبے سیستان اور بلوچستان میں پانی کی کمی اور خشکسالی کی وجہ صرف ہیرمند معاہدے کے تناظر میں حاصل ہونے والی تقسیم آب کی خدشات نہیں بلکہ اور بھی وجوہات ہوتے ہیں.
انہوں نے کہا گزشتہ سال جب میں نے افغانستان کا دورہ کیا تو افغان صدر اشرف غنی سے ہیرمند معاہدے کے حوالے سے ایرانی تحفظات کا اظہار کیا اور اس معاہدے کا مکمل نفاذ پر زور دیا.
انہوں نے کہا جب ہم پر یہ بات ثابت ہوئی کہ ایران کو اپنے حصے کا پانی نہیں مل رہا تو ہم نے تہران میں تعینات افغان سفیر کے ذریعہ افغان حکومت کو اپنے تحفظات کا اعلان کیا ہے.
خیال کیا جارہا ہے کہ افغانستان میں بعض منصوبے ایران کو مستقبل میں اس کے حصہ کے پانے سے محروم کردیں گے
جواد ظریف نے مزید کہا کہ امید ہے افغان حکومت بھی ہمارے خدشات کو سمجھیں اور ان کی حل کے لئے ایران کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعاون کریں.
1*271**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@