جوہری معاہدہ کی علیحدگی سے امریکہ کی ساکھ برُی طرح متاثر ہوگی: امریکی سینیٹر

تہران، 6 مئی، ارنا - امریکہ کے ڈیموکریٹک سینیٹر نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی، ٹرمپ کی ایک بڑی غلطی ہو گی جس سےامریکی ساکھ متاثر ہو جائے گی.

یہ بات 'ایڈورڈ مارکی' نے واشنگٹن میں منعقدہ ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

امریکی سینیٹر نے جوہری معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کے آئندہ فیصلے کو شمالی کوریائی اور امریکی حکام کے مستقبل مذاکرات کے نتائج کے تعین کرنے میں ایک اہم عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرٹرمپ شمالی کوریا کے رہنما 'کم جونگ' کے ساتھ مذاکرات کرنے کا خواہاں ہے تو انہیں عالمی جوہری معاہدے سے نہیں نکلنا چاہیے.

انہوں نے آئندہ دنوں میں جوہری معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کے آخری فیصلے کے حوالے سے کہا کہ ہمیں بہت سے مسائل کو سفارتکاری اور باہمی مذارکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے.

تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ مئی مہینے کے اواخر میں 'کم جونگ' کے ساتھ ملاقات کر کے مختلف مسائل سمیت کوریائی جزیرہ نما کے ایٹمی تخفیفِ اسلحہ پر بات چیت کریں گے

یاد رہے کہ بارہ مئی کو، ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے اور اس پر کاربند رہنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا.

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر نے اپنے ایک بیان میں ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے اعلی حکام نے اپنے وعدوں کے قائم رہنے پر اتفاق کئے ہیں.

روسی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے اعلان کردیا ہے کہ یورپی ممالک کے حکام اور ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے 120 رکن ممالک نے جوہری معاہدے پر روس اور چین کے مشترکہ بیان کی حمایت کی ہے.

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ ' فیڈریکا مغرینی' نے بار بار عالمی جوہری معاہدے کے نفاذ پر زور دیا ہے.

عالمی ایٹمی توانائی ادارے نے بھی اپنی 10 رپورٹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی دیانتداری کی تصدیق کی ہے.

سابق امریکی وزیر خارجہ 'جان کری' اور دوسرے امریکی حکام ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں.

9410٭272٭٭

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@