ایران کی امریکی عدالت کی جانب سے اپنے مخالف جاری کئے گئے حکم کی مذمت

تہران، 6 مئی ، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے 11 ستمبر2001 کے دہشتگردی واقعے کے حوالے سے امریکی عدالت کی جانب سے ایران مخالف جاری کئے گئے حکم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے حق کے تحفظ کے لئے اس غیرقانونی اقدام سے مقابلہ کرے گا.

یہ بات 'بہرام قاسمی' نے آج بروز اتوار امریکی عدالت کی جانب سے 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے حوالے سے ایران پر الزامات لگانے اور اس ملک کے خلاف جاری ہونے والے سیاسی حکم پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران مخالف جاری کئے گئے حکم ناقابل قبول ہے اور نہ صرف عالمی حقوق کا نظام بلکہ اس دہشتگردی واقعے کے لواحقین امریکہ کے ایسے اقدام کا مذاق اڑاتے ہیں.

قاسمی نے کہا کہ امریکی حکام ایسی سیاسی سازشوں کے ساتھ اس دہشتگردی اقدام کے اصلی ملوثوں کو چھپانے کے لئے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ امریکی عدالت کی جانب سے ایسے احکامات کو جاری کرنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قانونی حق کے تحفظ کے لئے اس غیرقانونی اقدام سے مقابلہ کرتا ہے.

تفصیلات کے مطابق، ایک امریکی عدالت نے 11 ستمبر 2001 کے دہشتگردی واقعے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اس واقعے کے لواحقین کے لئے ایران کو 6 ارب ڈالر جرمانہ کیا ہے.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ذریعہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک گہرا تعلقات قائم ہے اور دنیا بھر میں آل سعود دہشتگردوں کی جڑ ہے کیونکہ نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے ذریعہ تباہ کرنے والے ٹوئن ٹاورز اور اس کے بعد افغانستان، عراق اور شام میں مختلف سازشیں ان کی علامت ہے.

9393**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@