جوہری معاہدے سے امریکہ کی عیلحدگی تاریخی پشیمانی کا باعث ہوگا: صدر روحانی

سبزوار، 6 مئی، ارنا – صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی جوہری معاہدے پر امریکی صدر کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے ٹرمپ کی علیحدگی امریکہ کے لئے تاریخی پشیمانی کا باعث ہوگا.

ان خیالات کا اظہار 'حسن روحانی' نے آج بروز اتوار ایرانی صوبے خراسان رضوی کے شہر سبزوار کے دورے پر عوام کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ ایرانی بہادر قوم کے خلاف سازشوں میں کامیاب نہیں ہوگا.

صدر روحانی نے کہا کہ امریکی حکومت ہمیشہ ایرانی عوام کے خلاف سازش کرکے مگر کامیاب نہیں ہو رہا ہے لہذا ان کی جناب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا نتیجہ پشیمانی کے سوا کچھ نہیں ہوگا.

انہوں نے ایرانی قوم کو اپنے مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے چند مہینے سے پہلے جوہری توانائی ادارے اور ملک کے دوسرے محکموں کو حکم دیا ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں.

ایرانی صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا راستہ واضح ہے اور ہمیں اقتصادی شعبے میں لازمی احکام مل چکے ہیں.

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے ہمارا مقصد امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے دنیا میں ایران فوبیا پھیلنے کا خاتمہ ہے لہذا ہم نے اپنی خارجی پالیسی کے ساتھ دنیا کو ثابت کردیا کہ ایرانی قوم امن پسند عوام ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جوہری پابندیاں ایک غلطی اقدام تھا اور ہمارے بہادر جوہری مذاکرات کاروں نے مذاکرات کے ذریعہ ملک کے خلاف چھ طاقتور ملک کی جانب سے عائد ہونے والی پابندیوں کو خاتمہ کردیا.

ایرانی صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں دوگنا تک اضافہ، بینکاری تعلقات کو فروغ اور ملک کی درآمدات اور برآمدات کی صورتحال میں مزید بہتری آئی ہے.

انہوں نے کہا کہ امریکی کی خلاف ورزیوں کے باوجود ہم اپنے تمام وعدوں پر قائم ہیں اور اقوام متحدہ نے بھی ایران جوہری معاہدے کی تصدیق کی.

انہوں نے کہا کہ امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور سعودی عرب کے بغیر دنیا کے تمام ممالک ایران جوہری معاہدے کی تصدیق کرکے اس کی حمایت کر رہے ہیں اور ہم امریکہ کی تمام سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ امریکہ جان لیں کہ ایرانی قوم قائد اسلامی انقلاب کی قیادت کے ساتھ ان کی تمام سازشوں کو شکست دے رہی ہے.

صدر مملکت نے کہا کہ ہم اپنے وعدوں کے مطابق عمل کرکے اپنے میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات کی گنجائش نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم علاقے میں امن اور سلامتی کو جاری رکھنے کے لئے بھرپور کوشش کرکے یمن اور شام کی صورتحال پر ترکی اور روس کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور خطے میں دوسرے داعش دہشتگردوں قائم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کے آئندہ فیصلہ ہمارے ملک کی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ہم کسی بھی صورتحال کے سامنے کے لئے تیار ہیں.

9393**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@