عالمی جوہری معاہدے میں این پی ٹی کے نکات کو مکمل شامل کیا جانا چاہیے: ایرانی سابق سفارتکار

تہران، 6 مئی، ارنا - ایرانی سابق سفارتکار کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی جوہری معاہدے سے نکلتا ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ ایران بھی عالمی جوہری اور این پی ٹی معاہدے میں شامل رہنے کی متعلق نظر ثانی کرے.

یاد رہے کہ بارہ مئی کو، ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے اور اس پر کاربند رہنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا.

نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا اگر امریکہ اس عالمی جوہری معاہدے سے نکلتا ہے تو ہمارے پاس تین اقدامات موجود ہیں پہلا یہ کہ ایران جوہری معاہدے سے نکل کر یورنیم کی افزودگی تیز کرے گا دوئم یہ کہ معاہدے میں موجود تنازعے کے طریقہ کار کو استحصال کرے گا اور سوئم یہ کہ ایران این پی ٹی کے معاہدے سے دست بردار ہوجائے گا.

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے علی شمخانی نے یہ بھی کہا ہے کہ عالمی جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کا مطلب این پی ٹی کو چھوڑنا ممکنہ ایرانی جواب ہوگا.

ایران کے حکام نے حالیہ مہینوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے نکلتا ہے، تو اس معاہدے میں ایران کے شامل رہنے کا امکان و جواز نہیں رہتا.

274**

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@